بھٹکل 14/اپریل (ایس او نیوز) کورنٹائن کے ایام مکمل کرنے کے بعد بھی بھٹکل کے ایک نوجوان کی رپورٹ کورونا پوزیٹو آئی ہے جس پر لوگ حیرت کا اظہار کررہے ہیں۔ایک اور نوجوان میں کورونا کے اثرات پائے جانے کے ساتھ ہی ضلع اُترکنڑا سے کورونا مریضوں کی تعداد بڑھ کر دس ہوگئی ہے۔ اگر مینگلور اسپتال سے ڈسچارج ہونے والے بھٹکل کے نوجوان کو بھی لسٹ میں شامل کریں تو بھٹکل سے کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد گیارہ کو پہنچ گئی ہے۔ واضح رہے کہ آج جس نوجوان کی رپورٹ پوزیٹو آئی ہے یہ اُس حاملہ خاتون کا شوہر ہے جس کی رپورٹ 8/اپریل کو پوزیٹو آئی تھی اور اُسے بعد میں اُڈپی اسپتال شفٹ کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ یہ شخص دبئی سے 17مارچ کو ممبئی پہنچا تھااور وہاں تقریباً 3دن قیام کرنے کے بعد21 مارچ کو بذریعہ ٹرین بھٹکل پہنچاتھا۔ریلوے اسٹیشن سے دوست کی بائک پر گھر آیا تھا۔ گھر والوں کی مانیں تو بھٹکل پہنچنے کے بعد یہ شخص اپنے گھر پر ہی کورنٹائن میں تھا مگر 3 اپریل کو اس کی حاملہ بیوی میں بیماری کی کچھ علامات ظاہر ہوئیں تو شوہر خود ہی اس کو اپنے ساتھ اسپتال لے آیا۔دبئی سے آنے کی بات معلوم ہونے پر اس کے ہاتھ پر کورنٹائن کی مہر لگائی گئی اور اسے گھر پر ہی کورنٹائن میں رہنے کے لئے کہا گیا ، دو دن بعد ڈاکٹروں نے دونوں کے گلے سے تھوک کے نمونے حاصل کیے اور اسے جانچ کے لئے شموگہ لیباریٹری میں بھیج دیا تو رپورٹ آنے کے بعد ہر کوئی متعجب رہ گیا کیونکہ شوہر کی رپورٹ نگیٹیو آئی تھی اوربیوی کی رپورٹ پوزیٹیو۔اس لئے ڈاکٹروں نے شوہر کا نمونہ حاصل کرکے دوبارہ جانچ کے لئے بھیج دیا تھا۔ پتہ چلا ہے کہ اس بار شوہر کی رپورٹ بھی پوزیٹو آگئی، ذرائع کی مانیں تو بعد میں مزید تصدیق کرنے اس کے پھر سیمپل لئے گئے اور جانچ کے لئے سیمپل پونے کی لیباریٹری روانہ کئے گئے اور پونے کی لیباریٹری سے بھی اس کی رپورٹ کورونا پوزیٹیو آگئی ۔
منگل کو ضلعی انتطامیہ نے تصدیق کی کہ بیوی کے بعد اب شوہر کی رپورٹ بھی کورونا پوزیٹو آئی ہے۔ جس کے ساتھ ہی ضلع اُترکنڑا سے کورونا کے معاملات بڑھ کر دس تک پہنچ گئے۔
پتہ چلا ہے کہ اس کی اہلیہ کی رپورٹ پوزیٹو آنے کےبعد اس شخص کی ماں، اس کے دو بچے، اس کی بھابھی اور اس کی ساس کے بھی سیمپل جانچ کے لئے روانہ کئے گئے تھے، اور اُن تماموں کی رپورٹ نیگیٹو آچکی ہے۔
ایک طرف کاروار بحری اسپتال سے کورونا کے پانچ لوگوں کے ڈسچارج ہونے کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد بھٹکل کے عوام راحت کی سانس لے رہے تھے تو ایسے میں مزید ایک نوجوان کی رپورٹ پوزیٹو آنے سے بھٹکل میں لاک ڈاون کی صورتحال مزید سخت کئے جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
پانچ ڈسچارج لوگ بدھ کو کاروار سے روانہ ہوں گے: کاروار بحری پتنجلی اسپتال سے آج صبح پانچ لوگوں کے ڈسچارج ہونے کی خبر ڈپٹی کمشنر نے دی تھی مگر ذرائع نے خبر دی ہے کہ منگل شام تک اسپتال میں ایمبولنس دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اُن کو بھٹکل نہیں لایا جاسکا، چونکہ بحری اسپتال ہونے کی وجہ سے متعلقہ علاقہ میں کسی دوسری سواری کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے، اس لئے بتایا گیا ہے کہ دوسری ایمبولنس کو بھی متعلقہ اسپتال والے علاقہ میں داخل ہونے کی ممانعت ہے۔
کیا کاروار سے مزید ایک نوجوان ڈسچارج ہوگا ؟ پانچ لوگوں کے ڈسچارج ہونے کی اطلاع کے بعد فی الحال کاروار پتنجلی اسپتال میں صرف ایک ہی نوجوان رہ جاتا ہے۔
پتہ چلا ہے کہ اُس کی بھی صحت کافی بہتر ہے۔ ایسے میں سمجھا جارہاہے کہ کل بدھ تک اُس کی بھی رپورٹ نیگیٹو آسکتی ہے، اس صورت میں بدھ کو اُس کے بھی ڈسچارج ہونے کے امکانات ہیں، اگر اُس کی بھی رپورٹ کل بدھ تک نیگیٹو موصول ہوتی ہے تو تمام چھ لوگوں کو ایک ساتھ ایک ہی ایمبولنس پر بھٹکل روانہ کیا جاسکتا ہے۔
کیا بھٹکل میں کورونا پر قابو پالیا گیا ہے ؟ مینگلور وینلاک اسپتال سے ڈسچارج نوجوان کے بشمول بھٹکل کے گیارہ لوگوں کے کورونا سے متاثر پائے جانے کے بعد سمجھا جارہا ہے کہ اب بھٹکل میں کوئی بھی ایسا مشکوک شخص نظر نہیں آرہا ہے جو کورونا سے متاثر پایا جاسکتا ہو۔ ویسے آج بھی ایک ڈاکٹر اور دو نرس سمیت چار لوگوں کے سیمپل جانچ کے لئے بنگلور لیباریٹری روانہ کئے گئے ہیں کل پیر کو بھی بعض لوگوں کے سیمپل جانچ کے لئے روانہ کئے گئے تھے، توقع ہے کہ کل بدھ اور پرسو جمعرات کو ان تمام کی رپورٹ موصول ہوگی، اگر بدھ اور جمعرات کو موصول ہونے والے تمام رپورٹس نیگیٹو آتے ہیں تو کہا جاسکتا ہے کہ بھٹکل میں کورونا وباء پر قابو پانے کے لئے ضلع انتظامیہ نے جس چستی کا مظاہرہ کیا وہ قابل ستائش ہے۔
کیانئے مریض کو کاروار شفٹ کیا جائےگا ؟ آج منگل کو جس نوجوان کی رپورٹ کورونا پوزیٹو آئی ہے، اسے بھی کاروار پتنجلی اسپتال شفٹ کیا جاسکتا ہے، اس تعلق سے ضلع انتظامیہ نے فی الحال کوئی جانکاری نہیں دی ہے۔
اُڈپی میں ایڈمٹ مریضہ روبہ صحت: اُدھر اُڈپی سے خبر ملی ہے کہ بھٹکل کی کورونا سے متاثرہ جس حاملہ خاتون کو اُڈپی اسپتال میں شفٹ کیا گیا ہے، اُس کی صحت کافی بہتر ہے اور وہ روبہء صحت ہے۔